اس حقیقت سے ہر صاحب نظر واقف ہے کہ مدارس کا قیام ہر دور اور ہر علاقے کی بنیادی ضرورت ہے، انہی سے علوم اسلامیہ کی اشاعت و حفاظت اور قرآن و حدیث کے ذریعہ مسلمانوں کے قلوب کی آبیاری کی جاتی ہے،مسلمانوں کا اصل سرمایا یہی ہے، اگر انہیں اس سرمایہ سے تہی دست کر دیا جائے تو ان کا وجود بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے، اسی لئے علمائے ربانیین نے مدارس کا قیام کرتے ہوئے قرآن و حدیث اور اس کے علوم کی نہ صرف حفاظت کی بلکہ پورے عالم کو منور کردیا،اسی کے پیش نظر بانی مدرسہ جناب قاری محمد سلیمان صاحب دامت برکاتہم علاقے میں ایک ایسے ادارے کی ضرورت کو شدت سے محسوس کر رہے تھے کہ جس میں قرآن و حدیث اور علوم اسلامیہ کے ساتھ دور جدید کے تقاضوں کی رعایت کرتے ہوئے مبادی سائنس، تاریخ و جغرافیہ، حساب ،ہندی انگلش اور کمپیوٹر کی تعلیم کامعقول نظم ہو،نیزجس میں علم کے ساتھ عمل، فکری بالیدگی،وسعت نظر ،اخلاق حسنہ اور قلوب میں صحیح ایمان و یقین کی نہ صرف روح پھونکی جائے بلکہ شرک وبدعت سے محفوظ کرتے ہوئے قلوب کو توحید کے زمزمے سے معمور کیا جائے،بارگاہ الہی میں بانی مدرسہ ہذا جناب قاری صاحب کی نیت خالصہ اور تگ ودو مقبول ہوئی - ۳ ،اپریل ۱۹۸۵ ء بروز بدھ کو بیرونی و مقامی اکابرین ملت اور سلسلۂ تھانوی کے مشہور شیخ طریقت حضرت مولانا فراست حسین صاحبؒ (عرف میاں جی) اور حضرت مولانا جلیل احمد صاحب ؒ کے دست مبارک سے سنگ بنیاد رکھا گیا
حضرت میاں جیؒ نے ہی اس کا نام معارف القرآن تجویز فرمایا،مدرسہ ہذا گردش ایام کے ساتھ مشکلات و مصائب سے گزرتا ہواتالاب کے کنارے ایک چھپر کی چھو ٹی سی جھونپڑی میں اپنے عظیم مقصد کی طرف رواں دواں رہا - پھر ایک مبارک دن وہ بھی آیا کہ ۱۹۹۴ ء میں حضرت مولانا قاری صدیق احمد صاحب ؒ باندوی کامدرسہ ہذا میں ورود مسعود ہوا - آپ نے مدرسہ کی افتادہ زمین پر چھپر کی چھوٹی سی جھونپڑی کے قریب مخصوص دعاء فرمائی اور تعمیری سنگ بنیاد رکھا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ چھوٹا سا چھپر کا مدرسہ ایک عظیم الشان ادارہ اور علاقائی مرکز بن گیا،مدرسہ ہذا کی عمارات ، وسیع ،کشادہ،جاذب نظر،انتظام و سلیقہ قابل رشک اور ظاہر ی و باطنی خوبیوں کا نہ صرف حسین مرقع ہے بلکہ تعلیمی اعتبارسے قدیم و جدید کا سنگم ہے، اسی طرح ارباب جامعہ کے زیر نگرانی مدرسہ ام المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ للبنات کے نام سے موسوم ایک ادارہ قائم ہے جو عصری واسلامی علوم کے ساتھ اخلاقی زیور سے طالبات کوآراستہ کرنے میں سرگرم عمل ہے - مدرسہ میں طلبہ و طالبات کی مجموعی تعداد ۷۵۰ ہے،جن میں تقریبا ۲۵۰ طلبہ کا مدرسہ ہذا خود کفیل ہے،نیز ۳۳ مدرسین و ملازمین ہیں،مدرسہ کے سالانہ مصارف ٤٨ لاکھ روپے سے زائد ہیں،اہل خیر حضرات سے گزارش ہے کے مدرسہ کا بھرپور تعاون فرماکراجر عظیم کے مستحق ہوں۔